<?xml version="1.0" encoding="utf-8"?>

<rss version="2.0" xmlns:dc="http://purl.org/dc/elements/1.1/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
	<channel>
		<title><![CDATA[Urdu Poetry / Shayari | Islamic Art | Al-Quran & Hadith | Book Download | Gup Shup & more]]></title>
		<link>http://forum.urduworld.com/</link>
		<description><![CDATA[UrduWorld Forum offers Urdu Poetry / Shayari (Ghazal, Ashar, Nazam / Poems) Images, Islamic Artwork & Calligraphy, Download Books, General Gupshup, along with Publishing for Poets & Wrtiers from India & Pakistan.]]></description>
		<language>en</language>
		<lastBuildDate>Thu, 23 May 2013 17:36:21 GMT</lastBuildDate>
		<generator>vBulletin</generator>
		<ttl>1440</ttl>
		<image>
			<url>http://forum.urduworld.com/images/element/misc_blue/rss.png</url>
			<title><![CDATA[Urdu Poetry / Shayari | Islamic Art | Al-Quran & Hadith | Book Download | Gup Shup & more]]></title>
			<link>http://forum.urduworld.com/</link>
		</image>
		<item>
			<title>Ghazal Saans Lena Huwa Mohaal Mujhe...</title>
			<link>http://forum.urduworld.com/f150/saans-lena-huwa-mohaal-mujhe-442682/</link>
			<pubDate>Thu, 23 May 2013 15:35:35 GMT</pubDate>
			<description>Image: http://4.bp.blogspot.com/-Q2U19_Dnz3o/TdpYvF43_yI/AAAAAAAABWw/0Wi_WDTAjIA/s1600/Sans_Laina_copy.JPG</description>
			<content:encoded><![CDATA[<div><!-- google_ad_section_start --><span style="font-family: Palatino Linotype"><font color="DeepSkyBlue"><font size="5"><i><div style="text-align: center;"><img src="http://4.bp.blogspot.com/-Q2U19_Dnz3o/TdpYvF43_yI/AAAAAAAABWw/0Wi_WDTAjIA/s1600/Sans_Laina_copy.JPG" border="0" alt="" /></div></i></font></font></span><!-- google_ad_section_end --></div>

]]></content:encoded>
			<category domain="http://forum.urduworld.com/f150/">Urdu Poetry / Sher o Shayari</category>
			<dc:creator>Haya n</dc:creator>
			<guid isPermaLink="true">http://forum.urduworld.com/f150/saans-lena-huwa-mohaal-mujhe-442682/</guid>
		</item>
		<item>
			<title><![CDATA[Fashion & Style Summer Footwear...]]></title>
			<link>http://forum.urduworld.com/f2856/summer-footwear-442680/</link>
			<pubDate>Thu, 23 May 2013 13:21:43 GMT</pubDate>
			<description>Image:...</description>
			<content:encoded><![CDATA[<div><!-- google_ad_section_start --><span style="font-family: Palatino Linotype"><font color="DeepSkyBlue"><font size="5"><i><div style="text-align: center;"><img src="http://i00.i.aliimg.com/wsphoto/v0/779663176/free-shipping-Gentlewomen-2012-summer-shoes-flower-flat-heel-sandals-brief-shoes-ol-women-s-gladiator.jpg" border="0" alt="" /></div></i></font></font></span><!-- google_ad_section_end --></div>

]]></content:encoded>
			<category domain="http://forum.urduworld.com/f2856/">Girls World</category>
			<dc:creator>Haya n</dc:creator>
			<guid isPermaLink="true">http://forum.urduworld.com/f2856/summer-footwear-442680/</guid>
		</item>
		<item>
			<title>Khud Kalami بار میری ماں نے مجھ سے جھوٹ بولا 8</title>
			<link>http://forum.urduworld.com/f187/%D8%A8%D8%A7%D8%B1-%D9%85%DB%8C%D8%B1%DB%8C-%D9%85%D8%A7%DA%BA-%D9%86%DB%92-%D9%85%D8%AC%DA%BE-%D8%B3%DB%92-%D8%AC%DA%BE%D9%88%D9%B9-%D8%A8%D9%88%D9%84%D8%A7-8-a-442678/</link>
			<pubDate>Thu, 23 May 2013 12:04:07 GMT</pubDate>
			<description>٭ یہ کہانی میری پیدائش سے شروع ہوتی ہے۔ میں ایک بہت غریب فیملی کا اکلوتا بیٹا تھا۔ ہمارے پاس کھانے کو کچھ بھی نہ تھا اور اگر کبھی ہمیں کھانے کو کچھ...</description>
			<content:encoded><![CDATA[<div><!-- google_ad_section_start -->٭ یہ کہانی میری پیدائش سے شروع ہوتی ہے۔ میں ایک بہت غریب فیملی کا اکلوتا بیٹا تھا۔ ہمارے پاس کھانے کو کچھ بھی نہ تھا اور اگر کبھی ہمیں کھانے کو کچھ مل جاتا تو امی اپنے حصے کا کھانا بھی مجھے دے دیتیں اور کہتیں تم کھا لو مجھے بھوک نہیں ہے۔ یہ میری ماں کا پہلا جھوٹ تھا۔<br />
 <br />
٭ جب میں تھوڑا بڑا ہوا تو ماں گھر کا کام ختم کر کے قریبی جھیل پر مچھلیاں پکڑنے جاتی اور ایک دن اللہ کے کرم سے دو مچھلیاں پکڑ لیں تو انھیں جلدی جلدی پکایا اور میرے سامنے رکھ دیا۔ میں کھاتا جاتا اور جو کانٹے کے ساتھ تھوڑا لگا رہ جاتا اسے وہ کھاتی۔ یہ دیکھ کر مجھے بہت دکھ ہوا ۔ میں نے دوسری مچھلی ما کے سامنے رکھ دی۔ اس نے واپس کر دی اور کہا بیٹا تم کھالو۔ تمھیں پتہ ہے نا مچھلی مجھے پسند نہیں ہے۔ یہ میری ماں کا دوسرا جھوٹ تھا۔<br />
 <br />
٭ جب میں سکول جانے کی عمر کا ہوا تو میری ماں نے ایک گارمنٹس کی فیکٹری کے ساتھ کام کرنا شروع کیا۔ اور گھر گھر جا کر گارمنٹس بیچتی۔ سردی کی ایک رات جب بارش بھی زوروں پر تھی۔ میں ماں کا انتظار کر رہا تھا جو ابھی تک نہیں آئی تھی۔ میں انھیں ڈھونڈنے کے لیے آس پاس کی گلیوں میں نکل گیا۔ دیکھا تو وہ لوگوں کے دروازوں میں کھڑی سامان بیچ رہی تھی۔ میں نے کہا ماں! اب بس بھی کرو۔ تھک گئی ہوگی۔ سردی بھی بہت ہے۔ ٹائم بھی بہت ہو گیا ہے۔ ۔باقی کل کر لینا۔ تو ماں بولی ۔ بیٹا میں بالکل نہیں تھکی۔ یہ میری ماں کا تیسرا جھوٹ تھا۔<br />
 <br />
٭ ایک روز میرا فائنل ایگزام تھا۔ اس نے ضد کی کہ وہ بھی میرے ساتھ چلے گی۔ میں اندر پیپر دے رہا تھا اور وہ باہر دھوپ کی تپش میں کھڑی میرے لیے دعا کر رہی تھی۔ میں باہر آیا تو اس نے مجھے اپنی آغوش میں لے لیا اور مجھے ٹھنڈا جوس دیا جو اس نے میرے لیے خریدا تھا۔ میں نے جوس کا ایک گھونٹ لیا اور ماں کے پسینے سے شرابور چہرے کی طرف دیکھا۔۔ میں نے جوس ان کی طرف بڑھا دیا تو وہ بولی۔ نہیں بیٹا تم پیو۔ مجھے پیاس نہیں ہے۔ یہ میری ماں کا چوتھا جھوٹ تھا۔<br />
 <br />
٭ میرے باپ کی موت ہوگئی تو میری ماں کو اکیلے ہی زندگی گزارنی پڑی۔ زندگی اور مشکل ہوگئی۔ اکیلے گھر کا خرچ چلانا تھا۔ نوبت فاقوں تک آگئی۔ میرا چچا ایک اچھا انسان تھا۔ وہ ہمارے لیے کچھ نہ کچھ بھیج دیتا۔ جب ہمارے پڑوسیوں نے ہماری یہ حالت دیکھی تو میری ماں کو دوسری شادی کا مشورہ دیا کہ تم ابھی جوان ہو۔ مگر میری ماں نے کہا نہیں مجھے سہارے کی ضرورت نہیں۔ یہ میری ماں کا پانچواں جھوٹ تھا۔<br />
 <br />
٭ جب میں نے گریجویشن مکمل کر لیا تو مجھے ایک اچھی جاب مل گئی۔ میں نے سوچا اب ماں کو آرام کرنا چاہیے اور گھر کا خرچ مجھے اٹھانا چاہیے۔ وہ بہت بوڑھی ہو گئی ہے۔ میں نے انھیں کام سے منع کیا اور اپنی تنخواہ میں سے ان کے لیے کچھ رقم مختص کر دی تو اس نے لینے سے انکار کر دیا اور کہا کہ ، تم رکھ لو ، میرے پاس ہیں ، مجھے پیسوں کی ضرورت نہیں ہے۔ یہ اس کا چھٹا جھوٹ تھا۔<br />
 <br />
٭ میں نے جاب کے ساتھ اپنی پڑھائی بھی مکمل کر لی تو میری تنخواہ بھی بڑھ گئی اور مجھے جرمنی میں کام کی آفر ہوئی۔ میں وہاں چلا گیا۔ سیٹل ہونے کے بعد انھیں اپنے پاس بلانے کے لیے فون کیا تو اس نے میری تنگی کے خیال سے منع کر دیا۔ اور کہا کہ مجھے باہر رہنے کی عادت نہیں ہے۔ میں نہیں رہ پائوں گی۔ یہ میری ماں کا ساتواں جھوٹ تھا۔<br />
 <br />
٭ میری ماں بہت بوڑھی ہو گئی۔ انھیں کینسر ہو گیا۔ انھیں دیکھ بھال کے لیے کسی کی ضرورت تھی۔ میں سب کچھ چھوڑ چھاڑ کر ان کے پاس پہنچ گیا۔ وہ بستر پر لیٹی ہوئی تھیں۔ مجھے دیکھ کر مسکرانے کی کوشش کی۔ میرا دل ان کی حالت پر خون کے آنسو رو رہا تھا۔ وہ بہت لاغر ہو گئی تھیں۔ میری آنکھوں سے آنسو نکل آئے۔ تو وہ کہنے لگیں ۔ مت رو بیٹا۔ میں ٹھیک ہوں مجھے کوئی تکلیف نہیں ہو رہی، یہ میری ماں کا آٹھواں جھوٹ تھا اور پھر میری ماں نے ہمیشہ کے لیے آنکھیں بند کر لیں۔<br />
 <br />
جن کے پاس ماں ہے اس عظیم نعمت کی حفاطت کریں اس سے پہلے کہ یہ نعمت تم سے بچھڑ جائے اور جن کے پاس نہیں ہے۔ ہمیشہ یاد رکھنا کہ انھوں نے تمھارے لیے کیا کچھ کیا اور ان کی مغفرت کے لیے دعا کرتے رہنا۔<!-- google_ad_section_end --></div>

]]></content:encoded>
			<category domain="http://forum.urduworld.com/f187/"><![CDATA[Writer's Club (Publish Your Writeups)]]></category>
			<dc:creator>sakm2010</dc:creator>
			<guid isPermaLink="true">http://forum.urduworld.com/f187/%D8%A8%D8%A7%D8%B1-%D9%85%DB%8C%D8%B1%DB%8C-%D9%85%D8%A7%DA%BA-%D9%86%DB%92-%D9%85%D8%AC%DA%BE-%D8%B3%DB%92-%D8%AC%DA%BE%D9%88%D9%B9-%D8%A8%D9%88%D9%84%D8%A7-8-a-442678/</guid>
		</item>
		<item>
			<title>Ghazal چشمِ حیرت تو بتا کیسا تماشا ہو گیا۔۔۔ انور گل</title>
			<link>http://forum.urduworld.com/f150/%DA%86%D8%B4%D9%85%D9%90-%D8%AD%DB%8C%D8%B1%D8%AA-%D8%AA%D9%88-%D8%A8%D8%AA%D8%A7-%DA%A9%DB%8C%D8%B3%D8%A7-%D8%AA%D9%85%D8%A7%D8%B4%D8%A7-%DB%81%D9%88-%DA%AF%DB%8C%D8%A7%DB%94%DB%94%DB%94-%D8%A7%D9%86%D9%88%D8%B1-%DA%AF%D9%84-442677/</link>
			<pubDate>Thu, 23 May 2013 11:20:14 GMT</pubDate>
			<description>**انور گل * 
چشمِ حیرت تو بتا کیسا تماشا ہو گیا 
کس نے چھوڑا ہے تجھے اور کون تیرا ہو گیا 
 
دے گیا دریائے دل کو ایک صحرا کا وجود 
میرے دل کے راستے سے...</description>
			<content:encoded><![CDATA[<div><!-- google_ad_section_start --><span style="font-family: Georgia"><font color="Green"><font size="3"><b><div style="text-align: center;"><span style="font-family: urdu tehreer"><font size="5"><font color="#ff0000"><b><font size="6">انور گل </font></b><b><font size="6"><br />
</font></b></font><font color="#141414"><br />
چشمِ حیرت تو بتا کیسا تماشا ہو گیا</font><br />
<font color="#141414">کس نے چھوڑا ہے تجھے اور کون تیرا ہو گیا</font><br />
<br />
<font color="#141414">دے گیا دریائے دل کو ایک صحرا کا وجود</font><br />
<font color="#141414">میرے دل کے راستے سے کون پیاسا ہو گیا</font><br />
<br />
<font color="#141414">تذکرہ تھا شہر میں خاموشیوں کی لہر کا</font><br />
<font color="#141414">کہ اچانک ہی گلی میں شور برپا ہو گیا</font><br />
<br />
<font color="#141414">شہر کو بھی آ گیا چہرہ بدلنے کا ہنر</font><br />
<font color="#141414">مان لو اب شہر بھی آپ جیسا ہو گیا</font><br />
<br />
<font color="#141414">کس کی شہرت تھی تمہارے شہر میں بالائے بام</font><br />
</font></span><font color="#141414"><span style="font-family: urdu tehreer">کون</span></font><span style="font-family: urdu tehreer"><font size="5"><font color="#141414"> پستی میں گرا ہے کون رسوا ہو گیا</font><br />
<br />
<font color="#141414">بارہا ایسا ہوا کہ سانس بھی رکنے لگی</font><br />
<font color="#141414">بار ہا ایسا ہوا کہ حوصلہ سا ہو گیا</font><br />
<br />
<font color="#141414">جب تلک دل میں رہا تو شبنمی انداز تھا</font><br />
<font color="#141414">قطرہء خوں آنکھ میں آیا تو دریا ہو گیا</font><br />
<br />
<font color="#141414">دل تڑپ ’اٹھتا ہے ترکِ دوستی کے نام پر</font><br />
<font color="#141414">ہم بظاہر تو یہی کہتے ہیں کہ &quot;اچھا ہو گیا&quot;</font><br />
<br />
<font color="#141414">کس لئے حرکت میں ہیں یہ ہم نوایانِ یزید</font><br />
<font color="#141414">کیا کوئی پھر جانبِ کوفہ روانہ ہو گیا</font><br />
<br />
<font color="#141414">کاٹ ڈالی ہم نے انور اپنے جذبوں کی زباں</font><br />
<font color="#141414">جس سے دل کی بات کرتے تھے وہ بہرہ ہو گیا</font></font></span></div></b></font></font></span><!-- google_ad_section_end --></div>

]]></content:encoded>
			<category domain="http://forum.urduworld.com/f150/">Urdu Poetry / Sher o Shayari</category>
			<dc:creator>dasht-e-tanhae</dc:creator>
			<guid isPermaLink="true">http://forum.urduworld.com/f150/%DA%86%D8%B4%D9%85%D9%90-%D8%AD%DB%8C%D8%B1%D8%AA-%D8%AA%D9%88-%D8%A8%D8%AA%D8%A7-%DA%A9%DB%8C%D8%B3%D8%A7-%D8%AA%D9%85%D8%A7%D8%B4%D8%A7-%DB%81%D9%88-%DA%AF%DB%8C%D8%A7%DB%94%DB%94%DB%94-%D8%A7%D9%86%D9%88%D8%B1-%DA%AF%D9%84-442677/</guid>
		</item>
		<item>
			<title>Diary گناہ کا آغاز</title>
			<link>http://forum.urduworld.com/f187/%DA%AF%D9%86%D8%A7%DB%81-%DA%A9%D8%A7-%D8%A7%D9%93%D8%BA%D8%A7%D8%B2-442675/</link>
			<pubDate>Thu, 23 May 2013 09:33:14 GMT</pubDate>
			<description>گناہ کا آغاز مکڑی کے جالے کی طرح کمزور ہوتا ہے اور انجام جہاز کے لنگر کی طرح مٖضوط ہوتا ہے۔ 
 یعنی شروع میں انسان سوچتا ہے کہ ایک دو بار گناہ کرکے...</description>
			<content:encoded><![CDATA[<div><!-- google_ad_section_start -->گناہ کا آغاز مکڑی کے جالے کی طرح کمزور ہوتا ہے اور انجام جہاز کے لنگر کی طرح مٖضوط ہوتا ہے۔<br />
 یعنی شروع میں انسان سوچتا ہے کہ ایک دو بار گناہ کرکے چھوڑ دوں گا مگر آج اور کل کرتے کرتے گناہ کی عادت اتنی پختہ ہو جاتی ہے کہ چھوڑنا مشکل ہو جاتا ہے۔<br />
 گناہ آکاش بیل کی طرح ہوتا ہے جو انسان کو اپنے گھیرے میں لے لیتا ہے، آپ نے چلتے پھرتے بعض درختوں پر پیلی سی بیل دیکھی ہو گی ، وہ اس پورے درخت کو اس طرح اپنے قابو میں لے لیتی ہے کہ درخت کی نشو و نما رک جاتی ہے، اسی طرح گناہ سے انسان کی روحانی نشونما رک جاتی ہے۔<br />
 گناہ کی مثال ناسور کے جیسی ہے ، ناسور اگر رہے تو تکلیف دیتا ہے اور اگر اس کا علاج نہ کیا جائے تو بڑھتا چلا جاتا ہے۔<br />
 حافظ ابن قیم رح ایک عجیب بات فرماتے ہیں کہ اے انسان تو گناہ کرتے وقت یہ نہ دیکھ کہ گناہ چھوٹا ہے یا بڑا بلکہ اس پروردگار کی عظمت کو دیکھ جس کی تو نافرمانی کر رہا ہے۔<br />
 یہ گناہ انسان کے روحانی لباس پر دھبے ہوتے ہیں، جس طرح انسان کو ظاہر کے لباس پہ دھبہ اچھا نہیں لگتا اسی طرح اللہ تعالی کو انسان کے روحانی لباس بھی داغدار اچھا نہیں لگتا<!-- google_ad_section_end --></div>

]]></content:encoded>
			<category domain="http://forum.urduworld.com/f187/"><![CDATA[Writer's Club (Publish Your Writeups)]]></category>
			<dc:creator>sakm2010</dc:creator>
			<guid isPermaLink="true">http://forum.urduworld.com/f187/%DA%AF%D9%86%D8%A7%DB%81-%DA%A9%D8%A7-%D8%A7%D9%93%D8%BA%D8%A7%D8%B2-442675/</guid>
		</item>
		<item>
			<title>Column / Article فقر وغنٰی۔۔۔ ایک عبرت آموز واقعہ</title>
			<link>http://forum.urduworld.com/f187/%D9%81%D9%82%D8%B1-%D9%88%D8%BA%D9%86%D9%B0%DB%8C%DB%94%DB%94%DB%94-%D8%A7%DB%8C%DA%A9-%D8%B9%D8%A8%D8%B1%D8%AA-%D8%A2%D9%85%D9%88%D8%B2-%D9%88%D8%A7%D9%82%D8%B9%DB%81-442674/</link>
			<pubDate>Thu, 23 May 2013 09:23:23 GMT</pubDate>
			<description>مال دار فقیر اور فقیر مال دار کیسے بنتے ہیں ، یہ قدرت الہی کے کرشموں میں سے ہے، دن کورات ،رات کو دن ۔گرمی کو سردی ،سردی کو گرمی ۔ بادشاہ کوغلام ،...</description>
			<content:encoded><![CDATA[<div><!-- google_ad_section_start -->مال دار فقیر اور فقیر مال دار کیسے بنتے ہیں ، یہ قدرت الہی کے کرشموں میں سے ہے، دن کورات ،رات کو دن ۔گرمی کو سردی ،سردی کو گرمی ۔ بادشاہ کوغلام ، غلام کو بادشاہ ۔حاکم کو محکوم، محکوم کو حاکم۔ زبردست کو زیر دست ،زیردست کو زبردست بوس کو پی اے،پی اے کو بوس خادم کو مخدوم، مخدوم کوخادم۔ قیدی کو آزاد ،آزاد کو قیدی ۔عزت مند کو ذلیل ،ذلیل کوعزت مند ۔صحت مند کو مریض، مریض کو صحت مند ۔بچے کو جوان ، جوان کو بوڑھا۔ یہ سب اس کی طاقتِ خیرکی کارستانی ہے، ورنہ اس کی تو اتنی عظیم قدرت ہے کہ وہ سب کو یکساں فقراء یااغنیاء ۔۔۔۔ بنائے ، لیکن وہ اپنے بندوں کے مختلف احوال میں اچھے اعمال وکارکردگی دیکھنا چاہتے ہیں ’’ لیبلوکم ایکم احسن عملاً‘‘ ۔<br />
 <br />
اسکی مثال آپ ایک کلاس ٹیچر سے سمجھئے،اپنے شاگردوں کے امتحان لینے سے پہلے بھی اسے پتہ ہوتاہے کہ کون کتنے پانی میں ہے ،لیکن اتمام حجت اور تلامذہ کے مابین چہ می گوئیاں ختم کرنے کے لئے وہ سوال نامہ بناتاہے ،امتحان منعقد کرتاہے، احسن عمل دیکھنا چاہتاہے، امتحان کامقصود ہی قابل لوگوں کو پاس کرکے آگے اعلیٰ درجات تک پہنچاناہے ، فیل کرنامقصود نہیں ہوتا، لوگ خود نکّمے ہوتے ہیں وہ پاس نمبرز تو کیا رعایتی نمبرز جوایک ممتحن کا احسان ہے کے بھی مستحق نہیں ہوتے ، توتب جاکر فیل ہی ہوجاتے ہیں ، بعض متنبہ ہوکر ضمنی امتحانوں کے چانسز میں نکل بھی جاتے ہیں ، بعض مرتبہ قابل طالب علم سے بھی کوئی ایسی فحش غلطی ہوجاتی ہے کہ پیپر میں فیل ہوجاتاہے، یاپھر دانش گاہ ہی سے خارج ہوجاتاہے، فیل یا خارج ہونے میں قصور اس کا اپنا ہوتاہے ،مدیراور ممتحن کا نہیں،اسی سے اﷲ تعالی کے ان فرامین کوسمجھنے کی کوشش کی جانی چاہئے ،کہ’’ اﷲ تعالی اپنے بندوں کے لئے ایمان کوپسند کرتاہے، کفرکونہیں ‘‘ ، اب ’’جوچاہے ایمان لائے ، جوچاہے انکار کرے ‘‘،لیکن یہ یاد رکھو کہ’’ ،تمہیں جوتکلیف پہنچے گی وہ تمہارے ہی کئے کی سزا ہوگی‘‘ ۔<br />
 <br />
علامہ ابن جوزی نے دنیاکے اس امتحان گاہ میں ایسے ہی ایک پاس آدمی کے فیل ہونے اور ایک فیل کے پاس ہونے کاعجیب وغریب سبق آموز اورعبرت انگیز واقعہ نقل کیا ہے،اصفہان میں ایک بہت بڑارئیس اپنی بیگم کے ساتھ دسترخوان پر بیٹھا کھانے میں مصروف تھا، دسترخوان اﷲ کی نعمتوں سے بھرا ہواتھا، اتنے میں ایک فقیر نے صدالگائی : اﷲ کے نام پر کچھ کھانے کے لئے دے دوبھائی۔ اس شخص نے اپنی بیوی کو حکم دیا، کہ سارا دستر خوان اس فقیر کی جھولی میں ڈال دو، بیوی نے حکم کی تعمیل کی،اتنے میں اچانک اس نے اس فقیر کا چہرہ دیکھا ،تو دھاڑیں مارکر رونے لگی، اس کے شوہرنے اس سے پوچھا ،جی بیگم کیاہوا ؟ اس نے کہا،آپ کو کیا بتاؤں؟ـــــ ۔۔۔۔جو شخص فقیر بن کر ہمارے گھر پردستک دے رہاتھا،وہ چندسال پہلے اس شہر کا سب سے بڑا مالدار ،ہماری اس کوٹھی کا مالک او رمیرا سابق شوہرتھا ۔۔۔۔چندسال پہلے کی بات ہے کہ ہم دونوں اسی جگہ دسترخوان پر آج کی طرح ایسے ہی بیٹھ کرکھاناکھارہ